السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الصَّغَانِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ وِتْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " يَا بُنَيَّ، هَلْ تَعْرِفُ وِتْرَ النَّهَارِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، الْمَغْرِبُ، قَالَ: " صَدَقْتَ، وِتْرُ اللَّيْلِ وَاحِدَةٌ، بِذَلِكَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ تِلْكَ الْبُتَيْرَاءُ. قَالَ: " يَا بُنَيَّ، لَيْسَ تِلْكَ الْبُتَيْرَاءَ، إِنَّمَا الْبُتَيْرَاءُ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الرَّكْعَةَ التَّامَّةَ فِي رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا وَقِيَامِهَا، ثُمَّ يَقُومُ فِي الْأُخْرَى فَلَا يُتِمُّ لَهَا رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا وَلَا قِيَامًا، فَتِلْكَ الْبُتَيْرَاءُ ". ⦗٣٩⦘ وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رات کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے بیٹا! کیا دن کے وتروں کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ہاں وہ مغرب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، لیکن رات کا صرف ایک وتر ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا۔“ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! لوگ تو اس کو بتیرا کہتے ہیں۔ کہنے لگے: ”اے بیٹا! یہ بتیرا نہیں ہوتا، بتیرا تو یہ ہے کہ آدمی ایک رکعت مکمل رکوع، سجود اور قیام کے ساتھ پڑھے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو نہ رکوع و سجود مکمل کرے اور نہ قیام۔“ ان میں عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما ہیں۔