السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِرَجُلٍ فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟ قَالَ: " أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ". قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: إِنَّهَا الْبُتَيْرَاءُ. قَالَ: قَالَ: " أَسُنَّةُ اللهِ وَرَسُولِهِ تُرِيدُ؟ هَذِهِ سُنَّةُ اللهِ وَرَسُولِهِ ".حافظ ثناء اللہ
مطلب بن عبداللہ مخزومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک وتر پڑھ۔ وہ کہنے لگا: میں ڈرا تھا کہ لوگ کہیں گے: یہ بتیرا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کا ارادہ رکھتا ہے؟ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا طریقہ ہے۔