السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4740
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، أَوْ قَرِّبُوا، وَرُوحُوا وَاغْدُوا، وَخُطًى مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اس کا عمل نجات دلوائے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں میں بھی نہیں، اگر اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں نہ ڈھانپ لیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، یا فرمایا: تم قریب رہو اور راحت کو اختیار کرو، اور صبح کے وقت چلو اور رات کا کچھ حصہ، اور میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پالو گے۔“