السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4739
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " فَقَالُوا: هَذَا الْحَبْلُ لِزَيْنَبَ، تُصَلِّي فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِنَشَاطِهِ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ ". ⦗٢٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا: دو ستونوں کے درمیان رسی باندھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے وہ اس کے سہارے نماز پڑھتی ہیں جب وہ تھک جاتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھول دو۔ تم میں سے ہر ایک چستی کی حالت میں نماز پڑھے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے۔“