السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترتيل القراءة باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4714
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، إِنِّي أَهُذُّ الْقُرْآنَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَأُرَتِّلُهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ هَذْرَمَةً ".حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں تیز اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں سورہ البقرہ کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکمل قرآن تیزی سے پڑھ جاؤں۔