السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترتيل القراءة باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4713
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكْ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: " وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ، كَانَ يُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا ".حافظ ثناء اللہ
یعلی بن مملک نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی ﷺ کی قرأت اور رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: پھر تمہیں آپ کی نماز اور قرأت سے کیا نسبت؟ آپ ﷺ نماز پڑھتے، پھر اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر نماز پڑھتے، پھر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر سوتے، پھر سو جاتے اتنا وقت جتنی دیر نماز پڑھتے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی قرأت کا طریقہ بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرأت حرف، حرف ہوتی تھی (یعنی ایک ایک حرف سمجھ آتا تھا)۔