السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترتيل القراءة باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةً وَاحِدَةً أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ، فَإِنْ كُنْتَ فَاعِلًا لَا بُدَّ، فَاقْرَأْهُ قِرَاءَةً تُسْمِعُ أُذُنَيْكَ وَيَعِيهِ قَلْبُكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں ایسا آدمی ہوں جو بہت زیادہ تیز قرأت کرتا ہوں اور بعض اوقات رات کے اندر ایک یا دو مرتبہ قرآن کی تلاوت کر لیتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایک سورت پڑھ لوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں ویسے ہی کروں جو تم کرتے ہو۔ اگر آپ ایسا ہی کرتے ہیں تو پھر ایسی قرأت کرو جو تمہارے کان سن سکیں اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔