حدیث نمبر: 4702
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " ارْفَعْ شَيْئًا " وَلَا لِعُمَرَ " اخْفِضْ شَيْئًا " قَالَ: " وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ ". قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس قصہ کو نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنی آواز کو بلند کرو اور نہ ہی یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی آواز کو پست کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! میں نے سنا ہے تو فلاں فلاں سورہ پڑھتا ہے۔“ وہ کہنے لگے: عمدہ اور پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ جمع کر دے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درستگی کو پا لیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4702
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداؤد 1330»