السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن صلاة التراويح، وغيرها من صلاة الليل بالانفراد أفضل باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نمازِ تراویح اور رات کی دیگر نمازیں اکیلے پڑھنا زیادہ افضل ہے
حدیث نمبر: 4609
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ فِي بَيْتِهِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَإِذَا انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَخَذَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَخْرُجُ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ الصُّبْحَ ".حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان میں اپنے گھر قیام کیا کرتے تھے۔ جب لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے تو وہ پانی کا لوٹا پکڑتے اور مسجدِ نبوی کی طرف چلے جاتے، پھر وہ مسجد سے نہ نکلتے تھے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیتے۔