کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نمازِ تراویح اور رات کی دیگر نمازیں اکیلے پڑھنا زیادہ افضل ہے
حدیث نمبر: 4607
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ قَادِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمِرْثَدِيُّ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ⦗٦٩٦⦘ وُهَيْبٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانُ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، وَفِي رِوَايَةِ الْمِرْثَدِيِّ لَيْلَتَيْنِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " وَفِي رِوَايَةِ الْمَرْوَزِيِّ، وَالْمِرْثَدِيِّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزٍ عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے رمضان میں ایک چٹائی کا حجرہ بنایا، اس میں آپ ﷺ نے چند راتیں نماز پڑھی۔ مرثدی کی روایت میں ہے کہ دو راتیں، اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے ان کی تھکاوٹ کو جان لیا تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہاری حالت کو دیکھ لیا، لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو؛ کیونکہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو وہ گھر میں پڑھتا ہے، سوائے فرض نماز کے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4607
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 731»
حدیث نمبر: 4608
أنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ أُصَلِّي خَلْفَ الْإِمَامِ فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ: " أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " أَفَتُنْصِتُ كَأَنَّكَ حِمَارٌ؟ صَلِّ فِي بَيْتِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے کسی شخص نے کہا: کیا میں رمضان میں امام کے پیچھے نماز پڑھ لیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تو حافظ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! حافظ ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: کیا تو گدھے کی طرح خاموش رہے گا؟ تو اپنے گھر میں نماز پڑھ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4608
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عبدالرزاق 7742»
حدیث نمبر: 4609
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ فِي بَيْتِهِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَإِذَا انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَخَذَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَخْرُجُ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ الصُّبْحَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان میں اپنے گھر قیام کیا کرتے تھے۔ جب لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے تو وہ پانی کا لوٹا پکڑتے اور مسجدِ نبوی کی طرف چلے جاتے، پھر وہ مسجد سے نہ نکلتے تھے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4609
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»