السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن صلاة التراويح، وغيرها من صلاة الليل بالانفراد أفضل باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نمازِ تراویح اور رات کی دیگر نمازیں اکیلے پڑھنا زیادہ افضل ہے
حدیث نمبر: 4608
أنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ أُصَلِّي خَلْفَ الْإِمَامِ فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ: " أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " أَفَتُنْصِتُ كَأَنَّكَ حِمَارٌ؟ صَلِّ فِي بَيْتِكَ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے کسی شخص نے کہا: کیا میں رمضان میں امام کے پیچھے نماز پڑھ لیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تو حافظ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! حافظ ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: کیا تو گدھے کی طرح خاموش رہے گا؟ تو اپنے گھر میں نماز پڑھ۔