السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قيام شهر رمضان باب: رمضان کے مہینے میں قیام کرنے کا بیان
قَالَ عُرْوَةُ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِيُّ وَكَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ يَعْمَلُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ عَلَى بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ، فَخَرَجَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَطَافَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَاللهِ لَأَظُنُّ لَوْ جَمَعْنَاهُمْ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ " فَعَزَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَنْ يَجْمَعَهُمْ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، فَأَمَرَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقُومَ بِهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئٍ لَهُمْ، وَمَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِيُّ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نِعْمَ الْبِدْعَةُ ⦗٦٩٥⦘ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ " يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي أَوَّلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ دُونَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ وَإِنَّمَا أَخْرَجَ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حکام میں سے تھے اور یہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے بیت المال پر کام کیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک رات نکلے، ان کے ساتھ عبدالرحمن رحمہ اللہ بھی تھے۔ وہ مسجد میں گھومے تو دیکھا کہ مسجد میں لوگ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کوئی کسی گروہ کے ساتھ مل کر نماز میں مصروف تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر ان کو ایک قاری پر جمع کر دیا جائے تو یہ زیادہ افضل ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس بات کا ارادہ کر لیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو قیام کروایا کریں۔ پھر ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے ساتھ عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ اچھا طریقہ ہے، اور وہ لوگ جو سو جاتے ہیں وہ افضل ہیں ان قیام کرنے والوں سے (رات کا آخری مراد لے رہے تھے) اور لوگ رات کے ابتدائی حصے میں قیام کرتے تھے۔