السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قيام شهر رمضان باب: رمضان کے مہینے میں قیام کرنے کا بیان
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاةَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجَزُوا عَنْهَا " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".عروہ بن زبیر نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک رات نماز پڑھنے کے لیے مسجد تشریف لے گئے تو بہت سارے لوگوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر نماز پڑھی اور صبح کے وقت لوگوں نے آپس میں اس بارے میں باتیں کیں تو دوسری رات پھر اکثر لوگ جمع ہو گئے۔ نبی ﷺ بھی دوسری رات تشریف لائے، نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کے متعلق باتیں کیں۔ تیسری رات تو اژدحام ہو گیا۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات لوگ مسجد میں پورے نہیں آ رہے تھے اور نبی ﷺ بھی تشریف نہیں لائے، لوگ آوازیں دینا شروع ہوئے اور کہہ رہے تھے: نماز! نبی ﷺ باہر نہیں نکلے، پھر صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تمہاری رات کی حالت مجھ سے مخفی نہیں، لیکن میں نے ڈر محسوس کیا کہ کبھی تمہارے اوپر فرض نہ کر دی جائیں اور تم عاجز آ جاؤ۔“ آپ ﷺ قیامِ رمضان کی صرف ترغیب دیتے تھے، اس کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
نبی ﷺ فوت ہو گئے تو معاملہ ایسے ہی رہا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ ایسے ہی رہا۔