السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قيام شهر رمضان باب: رمضان کے مہینے میں قیام کرنے کا بیان
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ فَيُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ " ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ "، يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلَةِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں رمضان کی ایک رات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں آیا اور لوگ بکھرے ہوئے تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کہیں جماعت تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرا خیال ہے کہ میں ان کو ایک قاری پر جمع کر دوں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا، پھر انہوں نے اپنے عزم کے مطابق ان کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کر دیا، پھر میں ان کے ساتھ ایک دوسری رات نکلا تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ اچھا طریقہ ہے اور وہ لوگ جو سوئے ہوئے ہیں وہ افضل ہیں ان سے جو قیام کر رہے ہیں، وہ آخر اللیل کا ارادہ کر رہے تھے اور لوگ رات کے ابتدائی حصے میں قیام کرتے تھے۔