السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجاز أن يصلي أربعا لا يسلم إلا في آخرهن باب: اس قول کا بیان جس نے چار رکعتیں اس طرح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے کہ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرے
حدیث نمبر: 4581
أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ " إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ " لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ. وَقَدْ وَرَدَ الْحَدِيثُ الثَّابِتُ بِإِجَازَةِ خَمْسٍ لَا يُتَشَهَّدُ وَلَا يُسَلَّمُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ فِي الْوِتْرِ، وَبِإِجَازَةِ تِسْعٍ لَا يُقْعَدُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَلَا يُسَلَّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، وَذَلِكَ أَيْضًا فِي الْوِتْرِ مَذْكُورٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ظہر سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے کہا گیا: ”کیا آپ ان پر ہمیشگی کرتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے اوپر چلے جائیں۔“
(ب) ثابت کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات کی اجازت دی ہے، نہ ان کے درمیان تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں ہے کہ یہ وتر کے متعلق ہے اور آپ ﷺ نے نو رکعات کی اجازت دی ہے، صرف آخری رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں ہے۔