حدیث نمبر: 4582
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، قَالَ: دَخَلَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مَسْجِدَ دِمَشْقٍ فَإِذَا بِرَجُلٍ يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَنْظُرَ عَلَى شَفْعٍ يَنْصَرِفُ أَمْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ تَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمَ عَلَى وِتْرٍ؟ قَالَ: أَلَّا أَكُونَ أَدْرِي فَإِنَّ اللهَ يَدْرِي، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ يَقُولُ، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " قَالَ: فَقَالَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: قَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ہارون بن رئاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احنف بن قیس رحمہ اللہ دمشق کی مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو بہت زیادہ رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا، فرماتے ہیں: میں دیکھتا رہا کہ وہ جفت یا طاق پر سلام پھیرتا ہے۔ احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب اس نے نماز مکمل کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تو جانتا ہے کہ تو نے نماز جفت پڑھی ہے یا طاق؟ وہ کہنے لگا: میں نہیں جانتا، لیکن اللہ جانتا ہے۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے (ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہو)۔ پھر وہ رو پڑا، پھر اس نے کہا: میں نے اپنے دوست ابوالقاسم ﷺ سے سنا: ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹا دیتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: احنف رحمہ اللہ نے پوچھا: آپ کون ہیں، «رَحِمَكَ اللّٰهُ» ”اللہ آپ پر رحم کرے“؟ کہنے لگے: ابوذر رضی اللہ عنہ۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4582
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عبدالرزاق 3561»