کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس قول کا بیان جس نے چار رکعتیں اس طرح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے کہ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرے
حدیث نمبر: 4579
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهِنَّ خَيْرٌ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ، أَوْ يُقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: فِيهِنَّ سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج کے ڈھلنے کے بعد چار رکعات پڑھتے تھے۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! یہ نماز کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھلتا ہے اور ظہر کی نماز تک آسمان کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے میرے نیک اعمال اوپر چڑھائے جائیں۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ ان میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان تمام میں قراءت کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: کیا ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کیا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، صرف آخری رکعت میں سلام ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4579
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 4580
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ ح قَالَ: وَثنا أَبُو الرَّبِيعِ أَيْضًا أنبأ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " أَدْمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهِنَّ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ " قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ⦗٦٨٨⦘ قَالَ: وَهَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا وَهُوَ أَتَمُّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ وَقِيلَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَقِيلَ: عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ قَزَعَةَ وَهُوَ خَطَأٌ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ: " لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد میرے گھر چار رکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی نماز ہے جو آپ پڑھتے ہیں؟ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4580
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 4581
أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ " إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ " لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ. وَقَدْ وَرَدَ الْحَدِيثُ الثَّابِتُ بِإِجَازَةِ خَمْسٍ لَا يُتَشَهَّدُ وَلَا يُسَلَّمُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ فِي الْوِتْرِ، وَبِإِجَازَةِ تِسْعٍ لَا يُقْعَدُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَلَا يُسَلَّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، وَذَلِكَ أَيْضًا فِي الْوِتْرِ مَذْكُورٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ظہر سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے کہا گیا: ”کیا آپ ان پر ہمیشگی کرتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے اوپر چلے جائیں۔“
(ب) ثابت کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات کی اجازت دی ہے، نہ ان کے درمیان تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں ہے کہ یہ وتر کے متعلق ہے اور آپ ﷺ نے نو رکعات کی اجازت دی ہے، صرف آخری رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4581
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»