السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
حدیث نمبر: 4455
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، أنبأ عُثْمَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (ح) وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ وَهُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: " لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو۔“
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ دیہاتی نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ آپ کے لیے اور نہ آپ کے ساتھیوں کے لیے۔“