السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
حدیث نمبر: 4454
وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں جیسے فرض نماز ہے بلکہ سنت ہے۔ نبی ﷺ نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“