السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنْ لَا فَرْضَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَكْثَرُ مِنْ خَمْسٍ، وَأَنَّ الْوِتْرَ تَطَوُّعٌ.یہ باب اس بات کے بیان میں ہے کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ نمازیں فرض نہیں ہیں، اور یہ کہ وتر نفل (تطوع) نماز ہے۔
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ: " صِيَامُ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَاللهِ إِنْ صَدَقَ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَدَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ ".سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بکھرے ہوئے بالوں والا ایک دیہاتی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں مگر یہ کہ تو کچھ نفل پڑھے۔“ پھر کہنے لگا: اللہ نے میرے اوپر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے مگر یہ کہ آپ کچھ نفلی روزے رکھیں۔“ پھر وہ کہنے لگا: مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کے طریقوں کی خبر دی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے، نہ تو میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم! وہ جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔“
(ب) اسماعیل بن جعفر رحمہ اللہ نے یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔