السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يصل بعد الفجر إلا ركعتي الفجر، ثم بادر بالفرض باب: اس شخص کا بیان جس نے طلوع فجر کے بعد فجر کی دو سنتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھی، پھر جلدی سے فرض ادا کیے
حدیث نمبر: 4445
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَكِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَكْثَرَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُكْثِرُ فِيهَا الرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ يُعَذِّبُنِي اللهُ عَلَى الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ عَلَى خِلَافِ السُّنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ایک شخص کو طلوعِ فجر کے بعد دو رکعتوں سے زائد نماز پڑھتے دیکھا، جس میں وہ رکوع اور سجود کر رہا تھا، تو انہوں نے اسے منع کر دیا۔ وہ کہنے لگا: اے ابو محمد! کیا اللہ تعالیٰ نماز کی وجہ سے مجھے عذاب دے گا؟ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تجھے سنت کی خلاف ورزی کرنے پر ضرور عذاب دے گا۔