السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأيام دون بعض، فيجوز لمن حضر الجمعة أن يتنفل إلى أن يخرج الإمام باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض دنوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، چنانچہ جمعہ میں حاضر ہونے والے کے لیے امام کے نکلنے تک نفل پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4431
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حَسَّانُ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُصَلَّى نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛ لِأَنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے، سوائے جمعہ کے دن کے، کیونکہ ”ہر دن جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے سوائے جمعہ کے دن کے۔“