السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأيام دون بعض، فيجوز لمن حضر الجمعة أن يتنفل إلى أن يخرج الإمام باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض دنوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، چنانچہ جمعہ میں حاضر ہونے والے کے لیے امام کے نکلنے تک نفل پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو النَّضْرِ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرَةٍ، وَمَسَّ مِنْ دُهْنِ بَيْتِهِ، أَوْ طِيبِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَصَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ اسْتَمَعَ، وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى".حافظ ثناء اللہ
سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی طاقت کے مطابق پاکیزگی اختیار کی اور اپنے گھر کے تیل یا خوشبو سے کچھ لگایا، پھر جمعہ کے لیے چلا گیا اور نماز پڑھی، جو اس کے مقدر میں تھی، جب امام آگیا تو اس کی بات کو غور سے سنا اور خاموش رہا تو دو جمعوں کے درمیان والے ایام کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“