السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأيام دون بعض، فيجوز لمن حضر الجمعة أن يتنفل إلى أن يخرج الإمام باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض دنوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، چنانچہ جمعہ میں حاضر ہونے والے کے لیے امام کے نکلنے تک نفل پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4432
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَلْقَ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَلَهُ شَوَاهِدُ، وَإِنْ كَانَتْ أَسَانِيدُهَا ضَعِيفَةً مِنْهَا:.حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ مرسل ہے، ابو الخلیل کی ابو قتادہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے شواہد موجود ہیں اگرچہ ان کی سندیں ضعیف ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: