السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قِرَاءَةً، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٦٥١⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ الْمَدَائِنِيِّ قَالَ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى: قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: اتَّبَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي قَوْلِهِ لِلزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمِجَرَّةَ، يُرِيدُ لُزُومَ الطَّرِيقِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَذَلِكَ أَنَّ مَالِكًا وَيُونُسَ وَغَيْرَهُمَا رَوَوَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ، فَأَرَادَ الشَّافِعِيُّ أَنَّ سُفْيَانَ وَهِمَ، وَأَنَّ الصَّحِيحَ مَا رَوَاهُ مَالِكٌ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
یونس بن عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں مجھ سے فرمایا: سفیان بن عیینہ نے «زہری عن عروہ عن عبدالرحمن» کہنے میں عام راستے کی پیروی کی ہے، یعنی معروف سند پر چل پڑے۔ عبدالرحمن بن محمد کہتے ہیں: اس لیے کہ مالک، یونس اور دیگر نے یہ حدیث زہری سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمن القاری سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، تو امام شافعی کی مراد یہ تھی کہ سفیان کو وہم ہوا ہے اور صحیح وہی ہے جو مالک نے روایت کی ہے۔