السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4426
وَأنبأ أَبُو النَّصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أنه طَافَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْكَعْبَةِ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ فَرَكِبَ حَتَّى أَنَاخَ بِذِي طُوًى فَسَبَّحَ رَكْعَتَيْنِ " وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَغَيْرُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طواف مکمل کیا تو سورج کو دیکھا، وہ ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور ذی طویٰ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں دو رکعت نفل ادا کیے۔