السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4428
أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَطَافَ بَعْدَ الصُّبْحِ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا الْآنَ كَيْفَ يَصْنَعُ، أَيُصَلِّي أَمْ لَا؟ قَالَ: " فَجَلَسَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) ہمارے پاس آئے اور صبح کی نماز کے بعد طواف کیا، ہم نے دیکھا کہ کیا وہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔ ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) بیٹھے رہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔