السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4425
أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَائِنِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: " صَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي طُوًى وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں صبح کی نماز پڑھی، پھر بیت اللہ کے سات چکر کاٹے۔ پھر چلے اور مدینہ منورہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، جب «ذِي طُوًى» نامی جگہ پر پہنچے تو سورج طلوع ہو گیا، انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔