السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4424
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ مَغَارِبِ الشَّمْسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُونَ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْبَلْدَةَ بَلْدَةٌ لَيْسَتْ كَغَيْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابو درداء رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے کے وقت طواف کیا اور غروبِ شمس سے پہلے دو رکعت ادا کر لیں، ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور خود فرماتے ہیں کہ ”عصر کے بعد غروبِ شمس تک کوئی نماز نہیں ہے۔“ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ شہر دوسرے شہروں کی طرح نہیں ہے۔