السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب الأواني -- باب في جلد الميتة باب: برتنوں کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنى يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ: حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَّا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ " فِي حَدِيثِ ثِقَاتِ النَّاسِ، حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ: " أَلَّا تَنْتَفِعُوا ". قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَبُو زَكَرِيَّا رَحِمَهُ اللهُ: تَعْلِيلَ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا قَبْلَ الدَّبْغِ بِدَلِيلِ مَا هُوَ أَصَحُّ مِنْهُ فِي الْأَبْوَابِ الَّتِي تَلِيهِ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا (جس میں لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ“، ایک اور قوی سند کے ساتھ ہمارے اصحاب نے ہم کو بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے لکھا: ”تم نفع نہ اٹھاؤ۔“
شیخ ابو زکریا رحمہ اللہ اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔