السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب طهارة جلد الميتة بالدبغ باب: دباغت کے ذریعے مردار کے چمڑے کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، نا أَبُو سَعِيدٍ ⦗٢٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، فَقَالَ: " أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ؟ قَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام کی مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا، تم اس کو رنگتے اور نفع حاصل کرتے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف اس کا (گوشت) کھانا حرام ہے۔“