حدیث نمبر: 4334
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا، وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبَّوْا وَلَا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ: " لَا تُحْشَرُوا وَلَا تُعْشَرُوا وَلَا تُجَبُّوا وَلَا يُسْتَعْمَلْ عَلَيْكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ، وَلَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف کا وفد نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے ان کو مسجد میں بٹھایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے، انہوں نے نبی ﷺ پر شرطیں لگائیں کہ نہ ہی انہیں نماز کے لیے اکٹھا کیا جائے گا، نہ ہی ان سے عشر لیا جائے گا، نہ ہی ان پر غلبہ پایا جائے گا اور نہ ہی ان کی قوم کے علاوہ کوئی دوسرا ان پر عامل مقرر کیا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تم کو جمع کیا جائے، نہ عشر لیا جائے، نہ تم پر غلبہ پایا جائے اور نہ ہی تم پر تمہارے غیر سے عامل مقرر کیا جائے، لیکن اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں نماز نہ ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4334
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»