السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المشرك يدخل المسجد غير المسجد الحرام باب: مشرک کا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں داخل ہونے کا بیان
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا، وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبَّوْا وَلَا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ: " لَا تُحْشَرُوا وَلَا تُعْشَرُوا وَلَا تُجَبُّوا وَلَا يُسْتَعْمَلْ عَلَيْكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ، وَلَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ ".سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف کا وفد نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے ان کو مسجد میں بٹھایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے، انہوں نے نبی ﷺ پر شرطیں لگائیں کہ نہ ہی انہیں (جہاد کے لیے) اکٹھا کیا جائے گا، نہ ہی ان سے عشر لیا جائے گا، نہ ہی انہیں (نماز میں) جھکنا پڑے گا اور نہ ہی ان کی قوم کے علاوہ کوئی دوسرا ان پر عامل مقرر کیا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تم کو (جہاد کے لیے) جمع کیا جائے، نہ عشر لیا جائے، نہ تمہیں جھکنے پر مجبور کیا جائے اور نہ ہی تم پر تمہارے غیر سے عامل مقرر کیا جائے، لیکن اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو۔“