❮
❯
حدیث نمبر: 4335
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اشْتِرَاطِهِمْ حِينَ أَسْلَمُوا وَرَوَاهُ أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، زَادَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْزَلْتَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجَسُ إِنَّمَا يَنْجَسُ ابْنُ آدَمَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو ثقیف کو مسجد کے ایک خیمے میں ٹھہرایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے۔ پھر انہوں نے شرائط والی حدیث ذکر کی جب وہ مسلمان ہوئے۔
(ب) اشعث نے حسن رحمہ اللہ سے یہ روایت مرسل طور پر کچھ معنی کے ساتھ بیان کی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا ہے حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ آدم نجس ہوتا ہے، زمین تو نجس نہیں ہوتی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4335
درجۂ حدیث محدثین: تقدم
تخریج حدیث «تقدم»