حدیث نمبر: 4266
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٦٠٨⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سَالِمٌ أَبُو حَمَّادٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَلَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُصَلِّي حَتَّى يَبْلُغَ مِحْرَابَهُ، وَأُعْطِيتُ الرُّعْبَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، فَيَقْذِفُ اللهُ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِهِمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى خَاصَّةِ قَوْمِهِ، وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَكَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَعْزِلُونَ الْخُمْسَ فَتَجِيءُ النَّارُ فَتَأْكُلُهُ، وَأُمِرْتُ أَنَا أَنْ أَقْسِمَهَا فِي فُقَرَاءِ أُمَّتِي، وَلَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهُ وَأَخَّرْتُ شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو بھی نہیں ملیں۔ زمین کو میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنایا گیا ہے، حالانکہ کسی نبی کے لیے بھی جائز نہیں تھا کہ وہ اپنی خاص جگہ (محراب) کے بغیر نماز پڑھ لے اور ایک مہینے کی مسافت سے مجھے رعب دیا گیا ہے، جو میرے اور مشرکین کے درمیان ایک مہینے ہوتی ہے، لیکن اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے۔ انبیاء کرام اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث کیے گئے، لیکن میں جن و انس کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ انبیاء کرام مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ الگ کرتے، آگ آتی اور اسے کھا جاتی تھی، لیکن مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں وہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ اپنی امت کے فقرا میں تقسیم کر دوں۔ ہر نبی کو ایک مقبول دعا عطا کی گئی، لیکن میں نے اسے اپنی امت کے لیے سفارش کے طور پر مؤخر کر رکھا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4266
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»