السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب من استعمال ما يزيل الأثر مع الماء في غسل الدم باب: خون دھونے میں پانی کے ساتھ داغ مٹانے والی چیز کے استعمال کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4113
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ، قَالَتْ: " تَغْسِلُهُ فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، وَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ معاذہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کا خون کپڑے کو لگ جانے کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اسے دھو لیا کر، اگر خون کے نشانات زائل نہ ہوں تو اسے زرد رنگ سے تبدیل کر لیا کرو۔“ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی ﷺ کے پاس مجھے صرف تین مرتبہ حیض آیا اور میں نے اپنا کپڑا نہیں دھویا۔“