السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب من استعمال ما يزيل الأثر مع الماء في غسل الدم باب: خون دھونے میں پانی کے ساتھ داغ مٹانے والی چیز کے استعمال کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4110
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ تَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ قَالَ: " حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ".حافظ ثناء اللہ
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پسلی کی ہڈی سے کھرچ دے، پانی اور بیری کے پتوں سے دھو ڈال۔“