حدیث نمبر: 4111
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي كِتَابِي، وَقَالَ غَيْرُهُ آمِنَةُ بِنْتُ أَبِي ⦗٥٧١⦘ الصَّلْتِ وَهُوَ الصَّوَابُ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ فِي وَجْهِكَ هَذَا إِلَى خَيْبَرَ فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى بَرَكَةِ اللهِ " فَخَرَجْنَا مَعَهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدَثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقِيبَةَ رَحْلِهِ فَنَزَلَ إِلَى الصُّبْحِ وَنَزَلْتُ فَإِذَا عَلَى الْحَقِيبَةِ دَمٌ مِنِّي، وَذَلِكَ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى بِيَ الدَّمَ قَالَ: " لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، فَاغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ وَاغْتَسِلِي، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكِبِكِ " فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَتِهَا إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ ".
حافظ ثناء اللہ

بنی غفار کی ایک عورت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر نبی ﷺ کے پاس آئی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ خیبر جانا چاہتی ہیں تاکہ زخمیوں کو دوا دیں اور اپنی طاقت کے مطابق مسلمانوں کی مدد کریں۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ چلیں اور میں جوان تھی، نبی ﷺ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے تھیلے یا سامان پر سوار کر لیا۔ صبح کے وقت آپ ﷺ نے پڑاؤ کیا، سواری سے اترے، میں بھی سواری سے اترنے لگی تو میں نے سامان پر خون محسوس کیا، یہ میرا پہلا حیض تھا۔ میں سواری پر بیٹھی رہی اور شرم محسوس کر رہی تھی۔ جب نبی ﷺ نے خون کو دیکھا تو فرمانے لگے: ”شاید تو حائضہ ہو گئی ہے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی درستگی کرو اور پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ملا لو۔ اس کے ذریعے سامان والا تھیلہ دھو ڈال اور خود بھی غسل کر لے، پھر اپنی سواری پر لوٹ جا۔“ چنانچہ جب بھی ان کو حیض آتا تو وہ پانی اور نمک کے ساتھ طہارت حاصل کرتیں، انہوں نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد غسل بھی نمک اور پانی کو ملا کر دیا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد 6/380»