السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره -- باب: إمامة الجنب باب: نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 4068
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِلَتِ الصُّفُوفُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا، وَدَخَلَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِنَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور صفیں بھی برابر کر دی گئیں تو ہماری طرف نبی ﷺ آئے، جب آپ ﷺ مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ کو یاد آیا کہ آپ تو حالتِ جنابت میں ہیں، آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا اور گھر چلے گئے، غسل کیا اور گھر سے اس حالت میں نکلے کہ آپ ﷺ کے سر سے قطرے گر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔