❮
❯
حدیث نمبر: 4067
وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ⦗٥٥٧⦘ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي شَيْخٍ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ بِهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّى كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ " تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَارِثِيُّ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ وَكُلُّ ذَلِكَ شَاهِدٌ لِحَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صبح کی نماز میں تکبیر کہی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کی طرف اشارہ کیا اور خود چلے گئے۔ پھر آپ ﷺ گھر سے نکلے تو آپ ﷺ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، میں حالت جنابت میں تھا، لیکن بھول گیا تھا۔“
اس کو (اس طرح) بیان کرنے میں حسن بن عبدالرحمن حارثی منفرد ہیں۔ اسماعیل بن علیہ وغیرہ نے اسے ابن عون سے، انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے نبی ﷺ سے مرسل بیان کیا ہے اور یہی محفوظ ہے، اور یہ سب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے لیے شاہد ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4067
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الشافي في الأمر 278-1621»