کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 4062
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ " ⦗٥٥٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا خَيْثَمَةَ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ دِينَارٍ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيُّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَى الْأَشْيَبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام تمہیں نمازیں پڑھاتے ہیں۔ اگر وہ درست نماز پڑھائیں تو تمہارے لیے بھی اور ان کے لیے بھی اجر ہے، لیکن اگر وہ غلطی کریں تو تمہیں تو اجر ملے گا لیکن ان پر وبال ہے۔“
حدیث نمبر: 4063
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ " قَالَ: وَثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: فَكَبَّرَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشْرٌ وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فجر کی نماز میں شامل ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ ”تم اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو“، پھر آپ ﷺ واپس آئے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں اور میں حالتِ جنابت میں تھا“۔
حدیث نمبر: 4064
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ امْكُثُوا، ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی ایک نماز میں تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ”ٹھہرو“، پھر آپ ﷺ اس حالت میں واپس لوٹے کہ آپ ﷺ کے جسم پر پانی کے نشانات تھے۔
حدیث نمبر: 4065
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
حدیث نمبر: 4066
أنبأ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِلَابِيُّ بِحَلَبَ ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ كَمَا أَنْتُمْ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے، جب تکبیر کہی گئی تو واپس چلے گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف اشارہ کیا کہ ”تم اپنی حالت پر ہی رہو۔“ پھر آپ ﷺ گھر سے نکلے اور آپ ﷺ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں حالتِ جنابت میں تھا اور غسل کرنا بھول گیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4067
وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ⦗٥٥٧⦘ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي شَيْخٍ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ بِهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّى كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ " تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَارِثِيُّ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ وَكُلُّ ذَلِكَ شَاهِدٌ لِحَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صبح کی نماز میں تکبیر کہی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کی طرف اشارہ کیا اور خود چلے گئے۔ پھر آپ ﷺ گھر سے نکلے تو آپ ﷺ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، میں حالت جنابت میں تھا، لیکن بھول گیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4068
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِلَتِ الصُّفُوفُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا، وَدَخَلَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور صفیں بھی برابر کر دی گئیں تو ہماری طرف نبی ﷺ آئے، جب آپ ﷺ مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ کو یاد آیا کہ آپ تو حالتِ جنابت میں ہیں، آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا اور گھر چلے گئے، غسل کیا اور گھر سے اس حالت میں نکلے کہ آپ ﷺ کے سر سے قطرے گر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 4069
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ مُكْرَمٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ.
حافظ ثناء اللہ
ایک حدیث میں ہے کہ یہ کام تکبیر کہنے سے پہلے ہوا۔
حدیث نمبر: 4070
أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ذَكَرَ فَانْصَرَفَ، وَقَالَ لَنَا: " مَكَانَكُمْ " فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْظُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَكَبَّرَ فَصَلَّى بِنَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَ رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَرِوَايَةُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْهُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رِوَايَةِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْهُ رِوَايَةَ أَبِي بَكْرَةَ مُسْنَدَةً، وَرِوَايَةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ سِيرِينَ مُرْسَلَةً، وَرُوِي أَيْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور ہم کھڑے تھے، آپ ﷺ کے نکلنے سے پہلے ہم نے صفیں درست کیں۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہنے سے پہلے آپ ﷺ کو (کچھ) یاد آ گیا۔ پھر آپ ﷺ چلے گئے اور ہمیں فرمایا: ”تم اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔“ ہم کھڑے آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ واپس آ گئے اور آپ ﷺ نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ ﷺ کے سر سے پانی بہ رہا تھا، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور ہمیں نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 4071
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٥٥٨⦘ صَلَاتِهِ فَكَبَّرَ فَكَبَّرْنَا مَعَهُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنْ كَمَا أَنْتُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى آتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ " خَالَفَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ فَرَوَاهُ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں شامل ہوئے اور تکبیر کہی، ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ ”اپنی حالت میں رہو“، ہم کھڑے نبی ﷺ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ ﷺ کے سر سے قطرے بہہ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4072
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: صَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَرْضِنَا، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَى رَبِيعٍ مِنْهَا يَتَوَضَّأُ مِنْهَا فَإِذَا عَلَى فَخِذِهِ احْتِلَامٌ، فَقَالَ: هَذَا الِاحْتِلَامُ عَلَى فَخِذِي لَمْ أَشْعُرْ بِهِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ قَالَ: صِرْتُ وَاللهِ حِينَ أَكَلْتُ الدَّسَمَ وَدَخَلْتُ فِي السِّنِّ يَخْرُجُ مِنِّي مَا لَا أَشْعُرُ بِهِ " وَقَالَ مُحَمَّدٌ: فَمَا أَشْعُرُ بِهِ، وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَعَادَ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَلَمْ يَأْمُرْ أَحَدًا بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سوار ہو کر اپنی زمین کی طرف چلے گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک نالے پر بیٹھ کر اس سے وضو کرنے لگے تو ان کی ران پر مَنی لگی ہوئی تھی، وہ فرمانے لگے: یہ میری ران پر مَنی لگی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں، اس کو صاف کر دیا، پھر اللہ کی قسم! جب بھی میں چکنائی والی چیز کھاتا ہوں، میں عمر کے ایسے حصے میں پہنچ گیا ہوں کہ مجھ سے ایسی چیز نکل جاتی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے غسل کیا اور صبح کی نماز دہرائی، لیکن کسی ایک کو بھی نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 4073
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ الشَّرِيدِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا ".
حافظ ثناء اللہ
شرید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حالتِ جنابت میں نماز پڑھائی، خود آپ رضی اللہ عنہ نے نماز کو دہرا لیا، لیکن مقتدیوں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 4074
وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: وَثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا فَقَالَ: " كَبِرْتُ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَانِي جُنُبًا، ثُمَّ لَا أَعْلَمُ، ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا " قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَا أَجِيءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: " وَهَذَا الْمُجْمَعُ عَلَيْهِ: الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلَا يُعِيدُونَ مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلَافًا " قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، يَعْنِي فِي رِوَايَتِهِ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، وَلَا أَحْفَظُهُ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جب صبح ہوئی تو اپنے کپڑوں میں جنابت کو دیکھا اور فرمانے لگے: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں اپنے آپ کو جنبی خیال کرتا ہوں پھر مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز دہرائی اور دوسروں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔
عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔
عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 4075
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْإِعَادَةِ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، خود تو نماز دہرائی، لیکن دوسروں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 4076
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الضَّحَاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ هُوَ عَلَى وُضُوءٍ، فَتَمَّتِ لِلْقَوْمِ، وَأَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، قوم کی نماز تو مکمل ہوگئی، لیکن آپ ﷺ نے نماز کو دہرایا۔
حدیث نمبر: 4077
وَالَّذِي رُوِيَ فِي مُعَارَضَتِهِ، عَنْ أَبِي جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ وَأَعَادُوا " وَذَلِكَ فِيمَا أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَطَاءٍ الْجَلَّابُ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ وَهَذَا مُرْسَلٌ وَأَبُو جَابِرٍ الْبَيَاضِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لَا يَرْتَضِيهِ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولُ: أَبُو جَابِرٍ الْبَيَاضِيُّ كَذَّابٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حالتِ جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے بھی اور لوگوں نے بھی نماز لوٹائی۔
حدیث نمبر: 4078
وَالَّذِي أَنْبَأَهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ " صَلَّى بِالْقَوْمِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا " ⦗٥٦٠⦘ فَهَذَا إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ رَمَاهُ الْحُفَّاظُ بِالْكَذِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے خود بھی نماز لوٹائی، پھر انہیں حکم دیا تو انہوں نے بھی اعادہ کیا۔
حدیث نمبر: 4079
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ وَكِيعًا فَقَالَ: كَانَ كَذَّابًا فَلَمَّا عَرَفْنَاهُ بِالْكَذِبِ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَانٍ آخَرَ حَدَّثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ فَأَعَادَ وَأَمَرَهُمْ بِالْإِعَادَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھائی تو خود بھی نماز دہرائی اور دوسروں کو بھی لوٹانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 4080
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَرْوِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ شَيْئًا قَطُّ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 4081
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجِرَاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ " لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ قُوَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ بِغَيْرِ وُضُوءٍ أَنَّ أَصْحَابَهُ يُعِيدُونَ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ أَثْبَتَ أَنْ لَا يُعِيدَ الْقَوْمُ، هَذَا لِمَنْ أَرَادَ الْإِنْصَافَ بِالْحَدِيثِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس شخص کے لیے کوئی قوت موجود نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب امام بغیر وضو کے نماز پڑھا دے تو اس کے ساتھی نماز لوٹائیں گے، اور دوسری حدیث زیادہ ثابت ہے کہ لوگ نماز نہیں لوٹائیں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو حدیث کے ذریعے انصاف چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 4082
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْقُهُسْتَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ قَالَ: " يُعِيدُ وَلَا يُعِيدُونَ " قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: تَعْلَمُ أَحَدَنَا قَالَ: يُعِيدُ وَيُعِيدُونَ غَيْرَ حَمَّادٍ فَقَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق بیان فرماتے ہیں جو لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھا دیتا ہے کہ وہ خود تو نماز دہرائے گا، لیکن لوگ نہیں دہرائیں گے۔