السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: مقدار ما يستحب له أن يختم فيه القرآن من الأيام باب: ان دنوں کی مقدار کا بیان جن میں قرآن مجید ختم کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4060
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ قَالَ: لَأَنْ أَقْرَأَ الْبَقَرَةَ فِي لَيْلَةٍ فَأَتَدَّبَّرَهَا وَأُرَتِّلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَقَرَأَهَا كَمَا تَقْرَأُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوحمزہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: میں بہت تیز تیز قرآن پڑھتا ہوں! فرمایا: میں ایک رات میں صرف سورۃ البقرہ پڑھوں، اس میں غور و فکر کروں اور اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں تمہاری طرح پڑھوں۔