السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: مقدار ما يستحب له أن يختم فيه القرآن من الأيام باب: ان دنوں کی مقدار کا بیان جن میں قرآن مجید ختم کرنا مستحب ہے
أنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فِي سَبْعٍ وَلَا تَقْرَءُوُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَلْيُحَافِظِ الرَّجُلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَلَى جُزْئِهِ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي رَمَضَانَ فِي ثَلَاثٍ، وَفِي غَيْرِ رَمَضَانَ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَمَانٍ، وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ.(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو سات دن میں مکمل پڑھا کرو اور اس کو تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کرو اور آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر دن رات میں (کم از کم) قرآن کے ایک پارے کی (تلاوت) پر محافظت کرے۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں یہ روایت بیان کی گئی کہ وہ رمضان المبارک میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے اور غیر رمضان میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک قرآن مکمل کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر آٹھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔
(د) سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے۔
(ہ) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی پوری رات کو زندہ رکھتے (یعنی عبادت کرتے) اور ہر رکعت میں قرآن مکمل پڑھتے تھے۔