السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: مقدار ما يستحب له أن يختم فيه القرآن من الأيام باب: ان دنوں کی مقدار کا بیان جن میں قرآن مجید ختم کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4061
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةً وَاحِدَةً أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ فَإِنْ كُنْتَ فَاعِلًا لَا بُدَّ فَاقْرَأْهُ قِرَاءَةً تُسْمِعُ أُذُنَيْكَ وَيَعِيهِ قَلْبُكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوحمزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں تیز قرأت کرنے والا آدمی ہوں اور کبھی کبھار تو میں ایک رات میں ایک بار، دو بار قرآن پڑھ لیتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک ہی سورت پڑھوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں اس طرح کروں جس طرح تم کرتے ہو (یعنی ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ ختم۔)
اگر تو نے لازمی اس طرح کرنا ہی ہے تو (کم از کم) اس طرح پڑھ کہ تو اپنے کانوں کو سنا سکے اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔