السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: مقدار ما يستحب له أن يختم فيه القرآن من الأيام باب: ان دنوں کی مقدار کا بیان جن میں قرآن مجید ختم کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4057
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: وَأَحْسَبُنِي أَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً " قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشَرَةَ " قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَاقْرَأْ فِي عَشَرَةٍ " قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”ہر ماہ میں قرآن ختم کر۔“ میں نے کہا: میں (اس سے کم میں ختم کرنے کی) طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر بیس راتوں میں ختم کرلیا کر۔“ میں نے کہا: اس سے بھی زیادہ قوت پاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پندرہ دنوں میں مکمل کرلیا کر۔“ میں نے کہا: میں اس سے کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کو دس دن میں ختم کرلیا کر۔“ میں نے کہا: میں پھر بھی قوت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو سات دنوں میں ختم کرلیا کر اور اس سے جلدی ختم نہ کر۔“