السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في المعوذتين باب: معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) کے بیان میں
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا " فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسَ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ سفر رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا، پس آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو تلاوت کی جاتی ہیں؟“ پھر آپ ﷺ نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی، تو صبح جب آپ ﷺ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کے لیے اترے تو نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے عقبہ! تمہارا ان سورتوں کے بارے کیا خیال ہے؟“