السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في المعوذتين باب: معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) کے بیان میں
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي أَعْجَبُ بِهِمَا فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ فَقَرَأَ بِهِمَا، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟ " كَذَا قَالَ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ أَصَحُّ.سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دورانِ سفر میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو پڑھی جاتی ہیں؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے مجھے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ پھر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو یہ دو سورتیں (معوذتین) تلاوت فرمائیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: ”اے عقبہ! تمہارا (ان سورتوں کے بارے میں) کیا خیال ہے؟“