السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب القراءة -- باب: طول القراءة وقصرها باب: قراءت سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: قراءت کو لمبا کرنے اور اسے مختصر کرنے کا بیان
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ لِرَجُلٍ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ سُلَيْمَانُ: وَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ " قَالَ الضَّحَاكُ: وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ صَلَاةً أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى " يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ الضَّحَاكُ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُصَلِّي مِثْلَ مَا وَصَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ،.سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے فلاں شخص سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے زیادہ مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی جو اہل مدینہ کا امیر تھا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر کرتے تھے۔ عصر کی نماز کو بھی مختصر کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں «قِصَارِ الْمُفَصَّلِ» ”قصار مفصل“ تلاوت کیا کرتے تھے اور عشا کی پہلی دو رکعتوں میں «اَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ» ”اوساط مفصل“ پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں «طِوَالِ الْمُفَصَّلِ» ”طوال مفصل“ پڑھا کرتے تھے۔
ضحاک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے ایک شخص نے حدیث بیان کی جس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے اس نوجوان سے بڑھ کر کسی کی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ نہیں دیکھی، وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مراد لے رہے تھے۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی، وہ اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح ابھی اوپر سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔