السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في إتمام الفريضة من التطوع في الآخرة باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ كَمَثَلِ الْحُبْلَى حَمَلَتْ حَتَّى إِذَا دَنَا نِفَاسُهَا أَسْقَطَتْ فَلَا هِيَ ذَاتُ حَمْلٍ وَلَا هِيَ ذَاتُ وَلَدٍ، وَمَثَلُ الْمُصَلِّي كَمَثَلِ التَّاجِرِ لَا يَخْلُصُ لَهُ رِبْحٌ حَتَّى يَخْلُصَ لَهُ رَأْسُ مَالِهِ كَذَلِكَ الْمُصَلِّي لَا تُقْبَلُ لَهُ نَافِلَةٌ حَتَّى يُؤَدِّيَ الْفَرِيضَةَ فَتَكُونُ صِحَّتُهَا بِصِحَّةِ الْفَرِيضَةِ " وَالْأَخْبَارُ الْمُتَقَدِّمَةُ مَحْمُولَةٌ عَلَى نَافِلَةٍ تَكُونُ خَارِجَ الْفَرِيضَةِ فَلَا يَكُونُ صِحَّتُهَا بِصِحَّةِ الْفَرِيضَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.(ا) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنی نماز مکمل نہیں کرتا اس مادہ کی طرح ہے جو حاملہ ہو اور جب بچہ جننے کا وقت قریب آئے تو وہ اپنا حمل ساقط کر دے کہ نہ تو حمل رہا اور نہ ہی بچہ، اور نمازی کی مثال بھی تاجر کی سی ہے کہ نہ تو خالص کرتا ہے اور نہ ہی انصاف کرتا ہے تاکہ اپنے نفع کو خالص نہ کرلے، اسی طرح نمازی کے نوافل قبول نہ ہوں گے جب تک کہ وہ فرائض ادا نہ کرے۔“
(ب) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو ان نوافل پر محمول کیا جائے گا جو فرض نماز میں ہوتے ہیں اور ان نوافل کی صحت فرائض کی صحت کے ساتھ ہوگی اور سابقہ احادیث ان نوافل پر محمول ہوں گی جو فرائض کے علاوہ ہیں، ان کی صحت فرائض کی صحت پر موقوف نہ ہوگی، واللہ اعلم۔