السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في إتمام الفريضة من التطوع في الآخرة باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَمَنْ أَتَمَّهَا حُوسِبَ بِمَا سِوَاهَا وَإِنْ كَانَ قَدِ انْتَقَصَهَا قِيلَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ تَطَوُّعٌ لَمْ يَكْمُلِ الْفَرِيضَةَ، وَأُخِذَ بِطَرَفَيْهِ فَقُذِفَ فِي النَّارِ " وَوَقَفَهُ كَذَلِكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَرَوَاهُ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَأَتَمَّ مِنْهُ وَرَوَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى مَا يُشْبِهُ خِلَافَ هَذَا.(ا) سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قیامت کے دن آدمی سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ فرض نماز ہے۔ اگر اس کی نماز مکمل نکل آئی تو باقی حساب بھی لیا جائے گا اور اگر اس کی نماز میں کوئی کمی ہوئی تو کہا جائے گا: دیکھو کیا اس آدمی کے پاس نوافل ہیں؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو ان نوافل سے اس کے فرائض کو مکمل کیا جائے گا اور اگر نوافل نہ ہوئے تو فرائض مکمل نہ ہوں گے اور اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“
(ب) اس روایت کو یزید رقاشی نے نبی ﷺ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے اور یہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی نماز اور زکوٰۃ والی روایت کے ہم معنیٰ ہے۔