السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في إتمام الفريضة من التطوع في الآخرة باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4002
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ ⦗٥٤١⦘ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ لَمْ يُكْمِلْهَا قَالَ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا تُكْمِلُوا بِهِ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " رَفَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بندے سے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر اس کی نماز پوری نکلی تو پوری ہی لکھی جائے گی اور اگر اس کی نماز مکمل نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں؟ اگر ہیں تو فرضوں کی کمی ان نفلوں کے ساتھ پوری کر دو۔ پھر زکوٰۃ کا حساب اسی طرح ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق ہو گا۔“